کم بختی
معنی
١ - بدقسمتی، نحوست نیز مصیبت، آفت، شامت۔ "ہائے کمبختی! ارے میں تو کہیں کی نہ رہی۔" ( ١٨٩٦ء، فلورا فلورنڈا، ٣٦١ ) ٢ - درگت، بگاڑ، ستیاناس۔ "کسی کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ شایان سندھ و کابل کے لقب کی کمبختی ہے۔" ( ١٨٨٠ء، تاریخ ہندوستان، ٢٥٠:١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'کم' کے بعد فارسی اسم 'بخت' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٢ء کو "دیوان ذادہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بدقسمتی، نحوست نیز مصیبت، آفت، شامت۔ "ہائے کمبختی! ارے میں تو کہیں کی نہ رہی۔" ( ١٨٩٦ء، فلورا فلورنڈا، ٣٦١ ) ٢ - درگت، بگاڑ، ستیاناس۔ "کسی کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ شایان سندھ و کابل کے لقب کی کمبختی ہے۔" ( ١٨٨٠ء، تاریخ ہندوستان، ٢٥٠:١ )